”ہنر کی بادشاہت اور بدلی ہوئی تقدیر“
''آج کی بیگم، کل کی رانی'' کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اجڑی ہوئی مٹی سے بھی گلاب کھل سکتے ہیں،
''آج کی بیگم، کل کی رانی'' کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اجڑی ہوئی مٹی سے بھی گلاب کھل سکتے ہیں،
ہمارے معاشرے میں اکثر لفظ ''بیگم'' صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ایک خاتون کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرتے کرتے اپنی ذات کو بھول جاتی ہے