Live Financial Tickers
Header
Luxury Urdu Navigation
← ہوم پیج پر واپس جائیں

سیاست و قیادت

امریکہ انڈیا تعلقات 30 سال کی کم ترین سطح پر: ہندستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹ رہنما

شائع ہوا: 30 Jun, 2026 پڑھنے کا وقت: 3 منٹ ویوز: 424



ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ”بالکل تباہ کن پالیسیوں“ کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کے تعلقات گزشتہ 30 سالوں میں اپنے کم ترین مقام پر ہیں۔
واشنگٹن میں یو ایس انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر کھنہ نے پیر (29 جون، 2026) کو دعویٰ کیا کہ اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران وہاں ہندوستان کے سفیر نے انہیں بتایا تھا کہ مسٹر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ایک نسل کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ سرد جنگ کے دور کی تلخیوں کو بھلا کر دونوں ممالک نے ایک ''اسٹریٹجک پارٹنرشپ'' قائم کی، جس کی بنیاد جمہوریت، گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور خاص طور پر خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے پر تھی۔ تاہم، حالیہ چند برسوں میں کچھ ایسے جغرافیائی اور سیاسی واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے ان تعلقات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، اور مبصرین کے مطابق یہ تعلقات گزشتہ 30 سالوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔تجزیہ کاروں نے اس کے متعدد وجوہات بیان کئے گئے ہیں،
1. روس یوکرین جنگ اور بھارت کا مؤقف:جب سے روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہوئی ہے، امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ چاہتا تھا کہ بھارت بھی ان پابندیوں کا حصہ بنے۔ لیکن بھارت نے اپنے دیرینہ دوست روس سے نہ صرف سستا خام تیل خریدنا جاری رکھا بلکہ اقوامِ متحدہ میں روس کے خلاف قراردادوں پر ووٹنگ میں حصہ لینے سے بھی گریز کیا۔ واشنگٹن کے لیے نئی دہلی کا یہ آزادانہ مؤقف شدید مایوسی کا باعث بنا۔
2. خالصتان تحریک اور سکھ رہنماؤں کا معاملہ:حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب امریکہ نے بھارتی حکومت پر امریکی دھرتی پر سکھ رہنماؤں (جیسے گرپتونت سنگھ پنوں) کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام لگایا۔ اس سے قبل کینیڈا بھی ایسے ہی الزامات لگا چکا تھا۔ امریکہ کی جانب سے ان الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے، کیونکہ بھارت اسے اپنی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتا ہے۔ 3. انسانی حقوق اور جمہوریت پر امریکی تحفظات:امریکی کانگریس اور مختلف تھنک ٹینکس کی جانب سے حالیہ برسوں میں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، پریس کی آزادی اور مبینہ طور پر جمہوریت کی پسپائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارت ان بیانات کو ''اندرونی معاملات میں غیر ضروری مداخلت'' قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک میں سفارتی تلخی بڑھی ہے۔
4. تجارتی تنازعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی:اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اربوں ڈالر کی ہے، لیکن ٹیرف (Tariffs)، دانشورانہ ملکیت کے حقوق (Intellectual Property Rights)، اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے قوانین پر اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ بھارت اپنی مارکیٹ کو امریکی کمپنیوں کے لیے پوری طرح نہیں کھول رہا۔
کیا یہ واقعی 30 سال کی کم ترین سطح ہے؟:
اگرچہ موجودہ حالات میں تناؤ واضح ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے ایک گروہ کا ماننا ہے کہ اسے ''30 سال کی کم ترین سطح'' کہنا شاید مبالغہ آرائی ہو۔
* **1998 کے جوہری تجربات:** یاد رہے کہ 1998 میں جب بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے تھے، تو امریکہ نے بھارت پر سخت ترین اقتصادی اور تکنیکی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور تعلقات واقعی نچلی ترین سطح پر چلے گئے تھے۔ آج کے حالات اس دور جیسے نہیں ہیں۔* **کواڈ (QUAD) کا استحکام:** امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا اتحاد ''کواڈ'' اب بھی فعال ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ چین کے معاملے پر دونوں ممالک اب بھی ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔امریکہ اور بھارت کے تعلقات اس وقت ایک نازک موڑ سے گزر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف سیکیورٹی اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف روس کے ساتھ تعلقات اور خودمختاری کے مسائل نے دونوں کے درمیان بے اعتمادی کی فضا پیدا کر دی ہے۔مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما ان سفارتی چیلنجز کو کتنی سنجیدگی اور سمجھداری سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان اختلافات کو بروقت قابو نہ کیا گیا، تو یہ سرد مہری مستقل دوری میں بدل سکتی ہے۔
Comments

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔
Dynamic Footer