Live Financial Tickers
Header
Luxury Urdu Navigation
← ہوم پیج پر واپس جائیں

خواتین

”صبر کی بیگم سے محنت کی رانی تک“

شائع ہوا: 01 Jul, 2026 پڑھنے کا وقت: 3 منٹ ویوز: 82
ہمارے معاشرے میں اکثر لفظ ''بیگم'' صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ایک خاتون کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرتے کرتے اپنی ذات کو بھول جاتی ہے۔ لیکن وقت گواہ ہے کہ جب یہی بیگم اپنے اندر کے چھپے ہوئے ہنر اور حوصلے کو پہچان لیتی ہے، تو وہ کل کی ایسی ''رانی'' بن جاتی ہے جس کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ عورت کا غریب سے امیر ہونا صرف پیسوں کا کھیل نہیں، بلکہ اس کی سوچ اور محنت کی تبدیلی کا نام ہے۔
ایک چھوٹا اور سچا واقعہ
یہ کہانی ہے کلکتہ کی ایک عام سی گھریلو خاتون 'طاہرہ' کی۔ طاہرہ کے میاں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے اور گھر کا گزارا بہت مشکل سے ہوتا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے میاں سخت بیمار ہو گئے اور دکان بند ہو گئی۔ گھر میں راشن کے پیسے تک نہ بچے۔ طاہرہ، جو کل تک صرف گھر کی ''بیگم'' تھی اور کچن سنبھالتی تھی، نے ہمت نہیں ہاری۔
اسے کھانا بنانے کا بہت شوق تھا، خاص طور پر اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے روایتی مصالحے دار کھانے اور مٹھائیاں محلے بھر میں مشہور تھے۔ اس نے اپنے گھر کی جمع پونجی سے صرف چند سو روپے نکالے، مصالحے خریدے اور گھر ہی میں لذیذ لڈو اور ہوم میڈ مصالحے تیار کرنا شروع کیے۔ شروع میں اس نے محلے کی دکانوں پر یہ سامان پہنچایا۔ لوگوں کو ذائقہ پسند آیا تو آرڈرز بڑھنے لگے۔ طاہرہ نے صبح و رات ایک کر کے محنت کی، آہستہ آہستہ ٹفن سروس شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں اس کا یہ چھوٹا سا کام ایک بڑے کیٹرنگ بزنس میں بدل گیا۔ آج طاہرہ نہ صرف اپنے گھر کی مالک ہے بلکہ بیس دوسری غریب عورتوں کو روزگار بھی دے رہی ہے۔ وہ واقعی آج اپنے کاروبار کی ''رانی'' بن چکی ہے۔
یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ مصائب سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ موجودہ دور کی ہر بیگم کے اندر ایک رانی چھپی ہوئی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ہنر ہے—چاہے وہ سلائی کڑھائی ہو، کھانا پکانا ہو، یا پڑھانا ہو—تو اسے چھوٹا نہ سمجھیں۔ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنائیں، کیونکہ جو عورت اپنے قدموں پر کھڑی ہونا سیکھ لیتی ہے، تقدیر اس کے سامنے سر جھکا دیتی ہے۔
Comments

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔
Dynamic Footer