Live Financial Tickers
Header
Luxury Urdu Navigation
← ہوم پیج پر واپس جائیں

تعلیم و تعلم

ریاست مغربی بنگال کیمڈ ڈے میل سے انڈے غائب

شائع ہوا: 01 Jul, 2026 پڑھنے کا وقت: 3 منٹ ویوز: 85
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی مغربی بنگال میں دوپہر کے کھانوں (مڈ ڈے میل) سے انڈے ہٹا کرسبزی خوری مسلط کر رہی ہے، ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں میں رائج اسکول لنچ اسکیم سے انڈوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے سیاست اور غذائیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں قائم اس ریاستی حکومت نے دوپہر کے کھانے کے پروگرام (جسے مڈ ڈے میل کہا جاتا ہے) کا ٹھیکہ ایک ہندو مذہبی تنظیم انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانشیسنس(اسکان / ISKCON) کے حوالے کر دیا ہے، جسے عام طور پرہرے کرشنا تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تنظیم نے ایک ایسا مینو (کھانوں کی فہرست) تیار کیا ہے جس میں سے انڈوں کو یکسر ختم کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اسکان (ISKCON) مکمل طور پر سبزی خور مینو فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے کئی نام نہاد اونچی ذات کے ہندوؤں کی طرح یہ تنظیم بھی انڈوں کو گوشت کے برابر سمجھتی ہے۔ تنظیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ مغربی بنگال کے ان تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ طلبہ کو اعلیٰ معیار اور غذائیت سے بھرپور دوپہر کا کھانا فراہم کرنے کو یقینی بنائے گی جو مڈ ڈے میل کھاتے ہیں۔
اسکان کے ایک ترجمان نے—جنہیں میڈیا سے بات کرنے کی پاداش میں جبری رخصت پزیرکر دیا گیا ہے— نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگرچہ انڈے پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن اتنے ہی وزن کے سویا بین یا کاٹیج چیز (پنیر) میں اس سے بھی زیادہ پروٹین پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 1960 کی دہائی میں جنوبی ریاست تامل ناڈو کی جانب سے شروع کی جانے والی مڈ ڈے میل اسکیم 1995 میں ایک قومی پالیسی بن گئی تھی، اور تب سے محققین اس بات کا سہرا اس اسکیم کے سر باندھتے ہیں کہ اس نے اسکولوں میں بچوں کی حاضری بڑھانے میں نمایاں مدد کی ہے۔
اگرچہ ہندستان میں اب بھی اسکول چھوڑنے والے بچوں کی اعلیٰ شرح (ڈراپ آؤٹ ریٹ) کا شکار ہے—خاص طور پر لڑکیاں جب اپنی نوجوانی کی عمر میں داخل ہوتی ہیں —تاہم زیادہ تر ریاستوں میں اسکولوں میں داخلہ اب تقریباً 100 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔قومی سطح پر، اسکول کے ہر دن 12 کروڑ بچے دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، جس سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ایسا پروگرام بن جاتا ہے۔
2021 میں، مودی حکومت نے اس اسکیم کا نام بدل دیا تاکہ اسے براہ راست وزیر اعظم سے جوڑا جا سکے۔ اب اسے سرکاری طور پر پی ایم پوشن(PM Poshan) کہا جاتا ہے—ہندی میں ''پوشن'' کا مطلب غذائیت ہے—اگرچہ یہ اب بھی بڑے پیمانے پر مڈ ڈے میل اسکیم کے نام سے ہی جانی جاتی ہے۔
روایتی طور پر، ماہرینِ غذائیت، ماہرینِ تعلیم اور صحتِ عامہ کے ماہرین نے ان اسکولوں کے قریب مقامی طور پر تیار کردہ گرم اور تازہ کھانا فراہم کرنے کی وکالت کی ہے جہاں یہ پیش کیا جانا ہوتا ہے۔ اس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ کھانا تازہ ہو، اس میں مقامی کمیونٹی شامل ہو—جس کا صحت بخش کھانوں کو یقینی بنانے میں سب سے بڑا مفاد ہوتا ہے—اور اس سے ان مقامی اجزا کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جن سے طلبہ پہلے سے واقف ہوتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں، کچھ ریاستوں نے نجی طور پر چلنے والے ٹرسٹ اور غیر منافع بخش تنظیموں (این جی اوز) کو بھی کچھ اسکولوں میں مڈ ڈے میل فراہم کرنے کی اجازت دی ہے۔ اسکان، اپنی غیر منافع بخش تنظیم 'اکشے پاترا' (Akshaya Patra) کے ذریعے، 10 سے زیادہ ریاستوں کے مختلف حصوں میں اسکول کے کھانے فراہم کرتا ہے۔لیکن مغربی بنگال حکومت کے اس فیصلے سے پہلے، کسی بھی بڑی ریاست نے مڈ ڈے میل اسکیم کے پورے آپریشن کو مکمل طور پر اسکان کے حوالے نہیں کیا تھا۔
Comments

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔
Dynamic Footer