ایران کے منجمد اثاثوں کی قسمت تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے دستخط شدہ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی امن معاہدے پر بات چیت سے پہلے آرٹیکل 11 پر عمل درآمد ضروری ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی کے کہنے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ ایک ماہر وفد اس ہفتے دوحہ، قطر کا دورہ کرے گا تاکہ اس مفاہمت نامے پر عمل درآمد کی پیروی کی جا سکے۔
سی این این کی خبر کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہنے کے بعد کہ دونوں فریقین وہاں ملاقات کریں گے۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت طے ہے۔بغائی نے پیر کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ''حقیقت یہ ہے کہ امریکی نمائندے قطر کا دورہ کر رہے ہیں، اس کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو معاہدے کی پیروی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ایران معاہدہ کے شق گیارہ کو ہر حال میں نافذ العمل کروانا چاہتا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق ایران دونوں بار جنگ میں جیت حاصل کیا ہے، خود امریکی عوام کی اکثریت کا ماننا ہے کہ ایران ہی جنگ جیتا ہے، وہیں اسرائیلی عوام کی اکثریت کا بھی ماننا ہے کہ ایرن ہی جنگ جیتا ہے، ایسی صورت میں ایران ہر حال میں 14نکاتی مفاہت مامے پر عمل بر آمد کروانے کی کوشش کرے گا، ایران کا ماننا ہے کہ تمام بات چیت کا مرحلہ ابھی باقی ہے، تاہم جن باتوں پر معاہدہ ہو چکا ہے، اس پر عمل کرنا ہوگا،
اخبار عالم
14 نکاتی مفاہمت نامے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سب سے اہم
تبصرہ کریں
تبصرے