گذشتہ کل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جس ڈیل کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مسلسل اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور بیروت پر بھی حملہ کیا گیا، اس پر اسرائیلی وزیراعظم کو عوام سے بات کرنے میں تقریباً 20 گھنٹے لگے۔حزب اختلاف کی جماعتوں اور یہاں تک کہ نیتن یاہو کے اپنے اتحادیوں نے بھی ان پر زور دیا ہے کہ وہ اسے قبول نہ کریں، اس کی تعمیل نہ کریں۔ اور اس نے اسے کافی مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے موقف کا دفاع کیا، بشمول ایران پر حملہ کرنے کے فیصلے کا جب اسرائیل نے کیا تھا۔ انہوں نے بہت سی فوجی کامیابیوں کے بارے میں بات کی جو ان کے بقول اسرائیل ایران، لبنان، شام اور غزہ میں پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اصرار کیا کہ ان کی فوجیں مقبوضہ لبنان کی سرزمین میں موجود رہیں گی اور اسرائیلی مفادات کا دفاع کریں گی، اور کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لیے عسکری کارروائی کریں گے جس سے لائن کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔یہ اسرائیلی وزیر اعظم کا ٹرمپ کے ساتھ براہ راست تصادم ہے، لیکن یہ یقینیسوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا اسرائیل اور معاہدے کو کلعدم قرار دے سکتا ہے، کیا نیتن یاہو اس معاہدے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، فی الوقت امریکہ اور اسرائیل کے مفاد بالکل ایک دوسرے کے خلاف ہے، یہ معاہدہ ہر صورت میں امریکہ کے مفاد ہے، جب کہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ ہر صورت میں اس کے خلاف ہے،
اخبار عالم
نیتن یاہو کے تبصریسیمذاکرات میں فرق بے معنی، اب امریکہ اور اسرائیل آمنے سامنے
تبصرہ کریں
تبصرے