رونق اردومیڈیا
خبروں کی خبر،ہرخبروں پر نظر،سچائی اورصداقت کا پیامبر رونق اردومیڈیا » Blog Page » حالیہ جنگ عربوں کی بجائے ایران کا ساتھ دینا واجب؟
آئینہ عالم اسلامی دنیا ایڈیٹر کے قلم سے۔۔۔ ایڈیٹر-کے-قلم-سے۔۔۔ حالات حاضرہ سیاست و قیادت سیاسی ہلچل مسلم دنیا

حالیہ جنگ عربوں کی بجائے ایران کا ساتھ دینا واجب؟

حالیہ دنوں میں جنگ بہت ہی شدید سے شدید تر ہوتی چلی جارہی ہے، اس میں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس جنگ میں کس کا ساتھ دینا چاہئے،اور کس کا نہیں؟ ایک طرف امریکہ کے ہم نواعرب حکمران ہے جو کہ سنی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں تو دوسری طرف ایران ہے جو کہ شعیہ مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، پھر یہ کہ ایا شیعہ فرقہ کافر ہے یا نہیں، اس کے بارے میں علمائے کرام کا نقطہ نظر کیا ہے، حالیہ دنوں میں ہمیں کیا موقف اختیار کرنا چاہئے؟۔

قارئین کرام: اگر ایران کا جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ ایران کی تقریبا 95آبادی اثنا عشری شیعیوں کی ہے، جو کہ بارہ اماموں کے قائل ہیں، ان کا ماننا ہے کہ نبوت کا دروازہ تو بند ہو گیا ہے، مگر اماموں کا سلسلہ جاری ہے، اور دنیا کبھی بھی اماموں سے خالی نہیں ہوگی، آخری امام حضرت مہدی ہوں گے ، شیعہ کا یہ سب سے بڑا فرقہ ہے، جب کہ اس کے علاوہ زیدی اور اسماعیلی بھی دو فرقے ہیں، زیدی فرقہ کے ماننے والے زیادہ تر یمن میں رہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ زید ابن علی بھی ایک امام تھے، اس کے علاوہ ان کے نزدیک اہل بیت میں سے کوئی بھی امام بن سکتے ہیں، یعنی کہ ان کے مطابق امامت کی درجہ بندی 12تک محدود نہیں ہے، جب کہ تیسرا فرقہ اسماعیلی ہے،جو کہ اسماعیل بن جعفر کو امام مانتے ہیں، ان کے یہاں بھی امامو ں کا سلسلہ جاری ہے، ان کی تعداد بہت ہی کم ہے، عراق کے علاقہ میں یہ رہتے ہیں، ان تینوں فرقوں میں اثنا عشری اور زیدی فرقہ کے اہلکاروں کاماننا ہے کہ جو بھی امام ہوتا ہے وہ نبی کی طرح معصوم ہوتا ہے، البتہ اسماعیلی فرقہ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ امام معصوم نہیں ہوتا بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ کے بر گزیدہ بندے ہو تے ہیں، تو گویا کہ اسماعیلی کے نظریات بہت حد تک اہل سنت والجماعت سے ملتے جلتے ہیں، شیعہ فرقہ اثنا عشری کے بارہ اماموں میں پہلے امام حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، دوسرے حضرت حسن ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور تیسر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں،چوٹھے علی زین العابدین ہیں، پانچویں، محمد الباقر ہیں، چھٹے جعفر صادق ہیں، ساتوے موسی الکاظم ہیں، آٹھویں علی الرضاء ہیں، نویں محمد التقی ہیں، دسویں علی النقی ہیں، گیارہویں،حسن العسکری ہیں،جب کہ بارہویں حضرت مہدی ہیں، ان تمام کے بارے میں اہل تشیع کا ماننا ہے کہ یہ تمام ان کے آئمہ ہیں جب کہ اہل سنت و الجماعت کا ماننا ہے کہ یہ تمام اللہ کے بر گزیدہ بندے اور بزرک ہستیاں ہیں، شیعہ اور سنی کے ما بین سب سے بڑا اختلاف یہی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ اختلاف کیوں ہوا اور اس کا اصل کیا ہے، جب ہم اس کا اصل تلاش کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بخاری شریف اور مسلم شریف میں خلفاء اور امراء کے متعلق حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میرے بعد 12خلیفہ ہوں گے جو کہ قریش سے تعلق رکھیں گے، اس بارہ خلیفہ سے مراد اثنا عشری بارہ امام لیتے ہیں، جب کہ اہل سنت والجماعت جملہ احادیث کا جائزہ لیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں خلیفہ کا لفظ آیاہے جس سے مراد خلیفہ یعنی کہ ایسے بارہ بااثر سیاسی شخصیت یا خلیفہ ہوں گے جس کے ادوار میں اسلام کو کافی تقویت پہنچے گی، اس حدیث میں کسی خاص افراد کا نام نہیں ذکر کیا گیا ہے اس وجہ سے کسی بھی بارہ پر خاص کرنا درست نہیں ہوگا، مزید کہ حدیث میں کہیں تسلسل کا تذکرہ نہیں کیاگیا ہے کہ وہ خلیفہ ایک کے بعد ایک ہوں گے، اس بناء پر تسلسل کے ساتھ بارہ اماموں کو موسوم کردینا غلط ہو جائے گا، وہ بارہ افراد کسی بھی دور میں کوئی بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا قریشی ہونا شرط ہے،، علمائے کرام کا ماننا ہے کہ ان 12میں چار تو خلفائے راشدین ہیں، یعنی کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی ہیں جو کہ بالکل متفقہ طور پر اس فہرست میں شامل ہیں، جب کہ اختلاف رائے کے طو رپر پانچویں خلیفہ کے طور پر نواسہ ء رسول صل اللہ علیہ وسلم، حضرت حسن کو قرار دیتے ہیں،جب کہ بعض علمائے کرام نے امیر معاویہ، یزید، عبدالملک ابن مروان، الولید، سلیمان ابن عبد الملک، عمر بن عبد الغزیر،یزید ثانی، ہیشم بن عبد الملک کو شامل کرتے ہیں، تاہم یہ فہرست حتمی ہے، بلکہ اختلافی ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس اختلاف کی بناء پر شیعہ کو کافر کہا جاسکتا ہے؟،یا نہیں؟ تو علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ انہیں کافر نہیں کہا جائے گا بلکہ ان ہی مسلمان ہی کہا جائے گا، چونکہ ایمان مفصل یعنی کہ امت باللہ وملائکتہ الخ اور ایمان مجمل پر یہ تمام لوگ ایمان رکھنے والے ہیں، اس بناء پر انہیں کسی بھی اعتبار سے کافر نہیں کہا جاسکتا ہے، بلکہ انہیں مسلم ہی کہا جائے گا، اب سوال یہ پید ہوتا ہے کہ موجودہ جنگ کی صورت میں ایک طرف سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ ہے اور دوسری طرف ایران ہے، ایران مسلمانوں کی بات کر رہا ہے اور فلسطین کی حمایت کر رہا ہے، جب کہ سعودی ابھی بھی ایران کو خطرہ کی گھنٹی سمجھتے ہوئے در پردہ ایران کے خلاف محاذ آرائی کررہا ہے تو ایسی صورت میں کس کا ساتھ دینا چاہئے، جب ہم اس بات کو جاننے کے لیے قرآن حدیث کا َذخیرہ تلاش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ، قرآن کریم میں فرما یا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے، قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ فتنہ پروری قتل سے زیادہ سخت ہے، اس کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بالکل واضح ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کا ساتھ دو خواہ و ظالمہو یا مظلوم، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم کا سمجھ میں تو آتا ہے مگر ظالم کا کیا مطلب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظالم کو ظلم سے روک کر، اس کے علاوہ اور بھی متعدد احادیث کریمہ میں مظلوم کے ساتھ دینے کی بات کہی گئی ہے، جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کا نقطہ نظر شیعہ سنی اور مسلم و کافر پر نہیں ہے بلکہ عدل و انصاف پر ہے، ظلم و بربریت کے خلاف ہے، پس جو شخص بھی مظلوم ہو اس کا ساتھ دیا جائے گا اور جو بھی ظالم ہو، اس کی مخالفت کی جائے گی، اس تناظر میں اگر ہم امریکہ اور ایران کے اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ 1953سے پہلے پہلے امریکہ اور ایران میں اچھے تعلقات تھے، امریکی کمپنی ایران میں تیل نکالا کرتی تھی اور اپنی من مانی کیا کرتی تھی،تاہم 1953میں ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق نے تیل کو ایران کی قومی ملکیت بنادیا جس کے بعد ایران و امریکہ کے ما بین تلخی پیدا ہو گئی اور امریکہ کی من مانی وقتی طور پر ختم ہو گئی لیکن پھر امریکہ اور اپنے یوروپی اتحاد کے ساتھ مل کر ایران میں بغاوت کروادیا، اور شاہ محمد رضا پہلوی کو ایران کا حکمران بنا دیا اس کے بعد پھر ایران میں امریکہ کا جے جے کار ہو گیا، لیکن پھر اس کے بعد 1979میں اسلامی انقلاب رونما ہوا اور پھر امریکہ کا تیل نکالنا بند ہو گیا جس کے بعد سے لیکر اب تک امریکہ اور ایران کے ما بین تلخیاں بڑھی گئی، پھر اسرائیل سامنے آیا اور اپنے آپ کو پورے خطہ کا دادا بنے کے لیے ہر ایک طاقت ور مسلم ملک کو کسی نہ کسی طرح سے تباہ و برباد کرتا رہا، اور اختلاف کو خوب خوب ہوا دیاحتی ٰ کہ موجودہ جنگ کی صورت پیش آگئی ہے۔ اگر اس تاریخی حقیقت کی تناظر میں اگر ہم اس جنگ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ فی الوقت ایران مظلوم ہے اور امریکہ و اس کے اتحادی ظالم ہے، ظالم کو روکنا ضروری ہے اور مظلوم کا ساتھ دینا ضروری ہے، اس اعتبار سے ایران کا ساتھ دینا چاہئے اور امریکہ کو ہر حالت میں روکنا چاہئے، ہر ایک مسلمانوں پر اپنی حیثت کے مطابق ایسا کرنا ضروری ہے،

اپنا ای میل

Related posts

ایک تبصرہ چھوڑیں

ایک جائزہ دیں

×