رونق اردومیڈیا
خبروں کی خبر،ہرخبروں پر نظر،سچائی اورصداقت کا پیامبر رونق اردومیڈیا » Blog Page » ہیں مثل یہودی یہ سعودی بھی عذاب شعر: از مسعود مظہر قاسمی
آئینہ عالم اسلامی دنیا ایڈیٹر کے قلم سے۔۔۔ ایڈیٹر-کے-قلم-سے۔۔۔ جنوبی امریکہ شمالی امریکہ

ہیں مثل یہودی یہ سعودی بھی عذاب شعر: از مسعود مظہر قاسمی

قارئین کرام!اگر آپ مسلمان ہیں اور تھوڑا سابھی اسلامی مذہب پر ایمان ہے، تو یقینا آپ کا دل فلسطینی مسلمانوں کے لیے رورہا ہوگا، اور ہر صبح آپ اچھی خبر کے منتظر ہوں گے، فلسطینیوں پر ظلم و جبر کی جو داستانیں رقم کی جارہی ہے، وہ تاریخ کا ایک اندھیرا باب ہے، لیکن فلسطینی جس طرح سے ایک ظالم و جابر کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، یہ بھی ان کے روشن ایمان کی واضح تصویر ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ پوری دنیا کسی نہ کسی زاوے سے غلام ہے صرف اور صرف فلسطین ہی وہ قوم ہے جو کہ آزاد ہے،لیکن ان تمام سے ہٹ کر اگر عرب حکمرانوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے، عرب حکمران وہ حکمران نہیں بلکہ یہودی اور امریکہ زر خیز غلام ہے۔بلکہ یہ انہیں عرب حکمران کی اولاد ہیں جو کہ عربی عزت نفس کے نام پر خلافت عثمانیہ سے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے زوال کا سبب بنے، مسلمانوں کے زوال کی نشانی کے طور پر ابھرنے والی عرب ریاست سے کبھی بھی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا توقع نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ وہیں عرب حکمران ہے جن کے بارے میں بہت ہی پہلے مشہور شاعر فراز نے کہا تھا،شعر پڑھتا ہوں تو کہتی ہے خالق کی کتاب ہیں مثل یہودی یہ سعودی بھی عذاب اس قوم کے بارے میں کیا لکھیں فراز جو کعبہ کی کمائی سے پیتے ہیں شراب ۔یہ شعر در اصل سعودی حکمرانو ں کی عیاشی اور بے راہ روی کی واضح مثال ہے، حالیہ دنوں میں جب ٹرمپ کا دورہ ہوا اس دوران روز فلسطینیوں پر سیکڑوں ٹن بم برستا رہا، یومیہ سو سے زائد لوگ مارے جاتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود بے غیرت حکمرانوں کویہ تو فیق نہ ہوئی کہ فلسطینیوں کے لیے اپنی تقریب کو مختصر کرتے، مزید یہ کہ یو اے ائی نے اس دوران اپنے آقا ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے جس طرح سے مسلم دو شیزاؤں کا استعمال کیا، جس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ عرب ممالک کے حکمران کسی بھی صورت میں مسلم نہیں ہو سکتے بلکہ یہ مسلم کی شکل میں منافق ہے، جو کہ در اصل یہودی ہیں،بھلا بتائیں نئی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقے میں کسی بھی شخص کے لیے اس انداز سے مسلم دو شیزاؤں کو کیسے نچایا جاسکتا ہے، یہ وہی عرب حکمران ہیں جوکہ غیر ت کے نام سے خلافت سے الگ ہو گئے، مگر یہاں انہیں اپنے ماں بہنوں کو ٹرمپ کے سامنے پیش کر نے میں ٹھوڑی بھی غیرت نہیں جاگی، جہاں ایک طرف عرب حکمران بے غیرت ہیں وہیں وہاں کی عوام بھی بے غیرتی کی تصویر بنی ہوئی ہے، اتنے بڑے واقعات کے بعد وہاں کی عوام ابھی بے غیرتی کی نیند سو رہی ہے، مزید یہ کہ ٹرمپ جو کہ اسے پوری دنیا ایک ناکام اور پاگل بادشاہ کے نام سے جاناجاتا ہے، جس نے اپنے اقتدار میں آکر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی ہے، اسے اتنی بڑی انوسٹمنٹ دیکر کامیاب بنا دیا ہے، مگر غزہ کے لیے ایک لفظ بھی بولنے کی ہمت نہ ہوئی، ایسے ناقص اور نکمے عرب حکمرانوں سے اگر دنیا اچھا ئی کا توقع سوچتی ہے تو یہ ایک خام و خالی ہے، اس لیے اب پوری دنیا کے لیے ضروری ہو چکا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ملک کی حفاظت کے لیے سامنے آئیں، اور اپنا فیصلہ موجودہ عربی حکمرانوں کو چھوڑ کر کریں۔ اس کے علاوہ وہاں کے عوام کو چاہئے کہ وہ بھی ایک بار انقلاب کے لیے تیار ہو جائیں، اپنی رسول کے ملک کی حفاظت اور ماموس رسالت کی حفاظت اب انقلاب آنا ضروری ہو چکا ہے، اس لیے اب ضروری ہو گیا ہے کہ سعودی کے ہر گلی گلی میں انقلاب انقلاب کا نعرہ لگائیں اور ان بے غیرت حکمرانوں کو بے دخل کریں۔

اپنا ای میل

Related posts

ایک تبصرہ چھوڑیں

ایک جائزہ دیں