قارئین کرام! حالیہ دنوں میں تمام کے تمام اخباروں میں وقف ترمیمی بل کی سرخیاں زیب تن ہیں، وہیں مغربی بنگال کے مرشد آباد علاقہ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے تین افراد پولس کی گولیوں سامنا کرتے ہوئے، جام شہادت نوش فرما چکے ہیں، جن کی مذہبی غیرت و ہمیت کو ہم دل سے سلام کرتے ہیں،پھر یہ کہ اس پر اب سیاست تیز ہو چکی ہے، مغربی بنگال حکومت اسے اپوزیشن کا کارنامہ کرار دے رہی ہے، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنگال پولس ریاستی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے، ایسے میں گولی چلنا اسے ریاستی حکومت کا ہی کارنامہ تصور کیا جائے گا نہ کہ اپوزیشن کا،وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی بل کی شنوائی ہوئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے ایک ہفتہ کے اندر جواب طلب کیاہے، اور فی الوقت وقف ترمیمی بل کے نفاذ پر پابندی لگا دی ہے۔مسلم اور حکومت دونوں فریقوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی سراہنائی کی، مسلم لیڈران اور اہلکار وں نے ٹھنڈی سانس لیا اور دوسری شنوائی کا انتظار کرنے لگے، وہیں حکومت کے نمائندہ واہلکاروں نے بھی اس فیصلہ کا اس معنی کرخیر مقدم کیا کہ کورٹ نے وقف ترمیمی بل کو برقرار رکھتے ہوئے، جواب طلب کیا ہے، یعنی کہ کورٹ کی جانب سے اس ترمیمی بل ما لیا گیا ہے، کلعدم قرار نہیں دیا گیا، اب آئندہ شنوائی کے دوران اگر حکومت جواب داخل کرتی ہے اور اس سے سپریم کورٹمتفق ہو جاتا ہے تو یہ فیصلہ نافذ العمل ہو جائے گا،اسی دوران دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ہمارے ایک مؤقر ساتھی اچانک پوچھ بیٹھے کہ وقف ترمیمی بل کیا ہے، جس پر ناچیز نے یہ مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا۔
قارئین کرام!وقف ایک الگ چیز ہے اور وقف ترمیمی بل الگ ہے، وقف کا تعلق اسلامی احکام سے ہے، جب کہ وقف بل موجودہ جائیداد کی کے لیے حکومت کی جانب سے جوقوانین وضع کئے گئے ہیں اس کو کہتے ہیں اس طرح یہ دونوں چیزیں بالکل الگ ہیں، دونوں میں صرف ایک ہی چیزمشترک ہے کہ وقف شرعی اور وقف بل دونوں میں یکسانیت ہونی چاہئے کہ وقف بل اسلامی احکام کے خلاف نہ ہو، بلکہ اسلامی احکام کو نافذ کرنے والا ہو ۔
وقف کیا ہے؟
اسلامی نقطہ نظر سے مسلمانوں کو اپنے جائیداد (جائیداد سے مراد ہر وہ چیز جو کہ ملکیت رکھتی ہے، اور جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں)میں چار اختیارات حاصل ہیں، نمبر۱/تا حیات کسی کا حصہ متعین نہ کرنا، اگر کوئی شخص وفات پا جائے اور اس نے اپنے منقولہ اور غیر منقولہ جائیدار میں کسی کا حصہ متعین نہیں کیا ہے تو ایسے میں وراثت کا قاعدہ اس جائیداد پر لاگو ہوگا۔نمبر۲ /اپنی زندگی میں اپنے جائیداد کا مالک کسی کو بھی بنا سکتا ہے، نمبر3مرنے سے قبل کسی ایسے شخص کے لیے جسے میراث سے حصہ نہیں ملتا ہے وصیت کر جائے تو یہ وصیت ایک تیہائی مال میں قابل قبول ہوگا، یعنی اس وصیت کا اطلاق مرنے کے بعد ہوگا مرنے سے پہلے نہیں اور وہ بھی صرف ایک تہائی مال میں،باقی ورثاء پر تقسیم کیا جائے گا، نمبر4اپنی جائیداد کو وقف کردے، اور یہ کہے کہ یہ جائیدار رفاہ عام یعنی عام مسلمانوں کے لیے وقت کرتے ہیں، تو یہ جائیدا دفوری طور پر اس کی ملکیت سے نکل جائے گی، اور اس سے موصول ہونے والی آمدنی کو عامۃ المسلمین کے لیے خرچ کرنا لازم ہو جائے گا۔اگر وقف علی الاولاد کرتا ہے تو موقوفہ جائیدا کے متولی تو وقف کرنے والے کی اولاد ہو گی مگر اس سے موصول ہونے والی آمدنی کو عامۃ المسلمین کے لیے خرچ کرنا ہوگا۔گویا کہ وقف پورے طور پر مذہنی چیز ہے،جب کہ اس کیمد مقابل”وقف بل“ حکومت کی جانب سے تیار کردہ ایک قاعدہ نامہ ہے، جو کہ وقف کی املاک کی حفاظت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
وقف بل کی شروعات
وقف بل کی شروعات انگریزوں کے زمانے سے ہی ہوئی، کثیر تعداد میں عدالت میں وقف تنازے سامنے آنیلگے، ایک بھائی کہتا تھا کہ یہ زمین اس کے والد نے وقف کردیا ہے، تو دوسرا بھائی اس کا انکاری ہوتا تھا، اس قسم کے معاملات عدالت میں لاکھوں میں پہنچنے لگے، جس کے بعد انگریز حکومت نے وقف کونسل بنانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وقف جائیداد کی دیکھ بھال کی جاسکے، اس طرح 1913میں ہی وقف کونسل کی بنیاد ڈالدی گئی،تاہم اس کونسل کو چلانے کے لیے ایک قانون اور دستور کی ضرورت تھی،جس کی دستور سازی میں دس سال کا عرصہ لگ گیا اور 1923میں وقف بل متعارف کرایا گیا، پھر اس بل میں وقتا فوقتا تبدیلیاں بھی ہوتی رہی جس تبدیلیوں کو سال کے ساتھ وقف ترمیمی بل کا نام دیا گیا، اس طرح سے وقف ترمیمی بل 1954، وقف ترمیمی بل 1959، وقف ترمیمی بل 1964، وقف ترمیمی بل 1969، وقف ترمیمی بل 1984،وقف ترمیمی بل 2013 ، اور وقف ترمیمی بل 2024کے نام سے متعدد ترمیمات سامنے آچکے ہیں، اور ابھی بھی اس میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں، آزادی ہندستان سے لیکر اب تک اس بل میں 8بار تبدیلیاں ہو چکی ہیں، اوسطا ہر ۹ سال میں کوئی نہ کوئی وجہ بنا کر اس بل میں میں تبدیلیاں کردی جاتی رہی ہیں،
وقف ترمیمی بل 2025
اس بل میں 25تبدیلیاں کی گئیں ہیں، جن میں چار تبدیلیاں ایسی ہیں جو کہ مسلمانوں کے لیے نا قابل قبول ہے، ان میں سب سے پہلی تبدیلی وقف کونسل میں کم از کم دو ہندو اہلکاروں کو شامل کرنا ہے، جب کہ زیادہ کی کوئی حد متعین نہیں ہے، یعنی کہ زیادہ تو کیا ہی جاسکتا ہے تاہم کم از کم دو ہندو اہلکار ضرور شامل ہوں گے، بل کے اس شک پر مسلمانوں کو سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وقف پورے طور پر ایک اسلامی معاملہ ہے، اس لیے اس میں ہندو اہلکار کی شمولیت ہندستان کے دفع 29اور 30کی خلاف ورزی ہے، جس میں اقلیت کو اپنی مذہنی معاملات میں خود کفیل بنایا گیا ہے، مزید یہ کہ یہ بھی خدشتہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس میں ہندؤں کی تعداد بڑھادی جائے گی، اور مسلمانوں کی موقوفہ جائیدار پورے طور پر ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔
اس بل کا دوسرا شک ہے، موقوفہ جائیدار کا فیصلہ کلیکٹر کرے گا، اس شک پر مسلمانوں کو سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ کلیکٹر کے ہاتھوں موقوفہ زمین کا فیصلہ دینے سے وقف کونسل کے اختیار ات کم ہو جائیں گے، چونکہ کلیکٹر حکومت کے ماتحت کام کرنے والا اہلکار ہوتا ہے، جب کے جج حکومت کے دباؤ سے آزاد ہوتا ہے، اس سے قبل موقوفہ جائیدار کا فیصلہ جج کیا کرتے تھے۔
اس بل کا تیسرا اور متنازعہ شک یہ کہ مشکوکہ جائیداد پہلے وقت کی ملکیت تصور کی جاتی تھی، یعنی کہ ایک ایسی جائیداد ہے جس میں شک واقع ہو جائے کہ یہ وقف کی ہے یا نہیں ایسی صورت میں پرانے قانون کے مطابق اسے وقف کی ہی جائیدار تصور کیا جاتا تھا، جب کہ اب وہ وقف کیجائیداد نہیں رہیگی۔اس شک سے بہت سے جائیدار وقف کی ملکیت سے نکل جائیں گے، مکیش امبانی کا انٹیلیا ہوس بھی اسے کے زمرے میں آتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی کئی مشہور جگہیں اسے کے زمرے میں آتی ہے، جس سے ان تمام کو راحت ملے گی، مسلم اہلکاروں کا ماننا ہے کہ یہ ترمیمی بل انہیں لوگوں کو بچانے کے لیے لایا گیا ہے۔
اس بل کا چوتھا شک وقف یوزر کا خاتمہ ہے، واضح رہے کہ وقت یوزر یہ کوئی مسلم اصطلاح نہیں بلکہ حکومت ہند کی جانب سے ہی وضع کردہ اصطلاح ہے، یہ اصطلاح ان لوگوں پر استعمال ہوتا ہے جو کہ وقف کرنے کے باوجود اس سے منفعت حاصل کرتے ہیں اور اپنے لیے استعمال کرتے ہیں، اس شک کی وجہ سے وہ لوگ جو کہ وقت کر چکے ہیں، وہ موقوفہ جائیداد کو اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے ہیں، بلکہ جس چیز کے لیے وقف کیا جائے گا اسی کے لیے استعمال ہوگا۔اس شک میں ا گر چہ کچھ مسلمانوں کو اعتراض ہے تاہم مسئلہ بھی یہی ہے کہ وقف کرنے سے اشیاء واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے، یعنی کہ وقت کرنے کے بعد وہ دوبارہ استعمال نہیں کر سکتا ہے۔
موجودہ عدالتی فیصلہ
موجودہ عدالتی فیصلہ کے رو سے ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ عدالت مسلمانوں کیحق میں فیصلہ صادر کرے گی، لیکن اگر ہندستانی منشور اور دستور ہند کا جائزہ لیا جائے تو یہی اندازہ ہوگا کہ وقتی طور پر کچھ دن کے لیے عدالت اس ترمیم کے مطابق فیصلہ کو روک تو لگا سکتی ہے،لیکن اس بل کو کلعدم قرار نہیں دے سکتی ہے، در اصل ہندستان کی حکومتی بارڈی چار حصوں پر مشتمل ہے، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا، مقننہ یعنی پارلیمبٹ اور اسمبلیاں اس کا کام قانون سازی کرنا ہے،انتظامیہ کا کام قانون کو نافذ کرنا ہے، اور عدلیہ کا کام بنے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، جب کہ میڈیا کا کام حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ سے لوگوں کو روشناس کرانا ہے اور لوگوں کو باخبر کرنا ہے،حکومت کے ان چاروں ستون کو قانون کے اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے، اور قانونی اعتبار اس چاروں کی عزت کرنا ضروری ہے، ان کے کام میں کچھ بھی اعتراض تو انہیں بغیر کورٹ کی اجازت کے گرفتار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ کے ہی ذمہ ہندستانی دستور کی حفاظت ہے، پس اگر اس بل کو ہندستانی دستور کے خلاف اگر ثابت کیا جاسکا تو پھر سپریم کورٹ اسے کلعدقرار دے سکتا ہے، ورنہ نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس بل کو ہندستان کے دستور کے خلاف کیسے کہا جا سکتا ہے، چونکہ تبدیلیاں اس سے پہلے بھی کی گئیں ہیں، ان تمام تبدیلوں کو دستور ہند کے خلاف نہیں سمجھا گیا تو پھر موجودہ تبدیلی کو بھی دستور ہند کے خلاف نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔گویا کہ سپریم کورٹ اس بل کو کلعدم قرار نہیں دے سکتا ہے، یہی بات بل پر جو اعتراض ہے اس کے بارے میں سپریم کورٹ حکومت سے جواب طلب کرے گا، اگر حکومت اپنے جواب سے سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس بل کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا جائے گا، اور بل نافذ العمل ہوگا۔
پھر اس بل کا خاتمہ کیسے ممکن؟
اس بل کا خاتمہ دو طریقے سے ممکن ہے، ایک تو یہ ہے کہ ہندستان کے ہر ریاست میں احتجاج و مظاہرہ کیا جائے اور ریاستی حکومت کو پابند بنایا جائے کہ اس بل کو اپنے ریاست میں لاگو نہ ہونے دے۔جب ہندستان کے پورے یااکثر ریاست میں یہ بل نافذ العمل نہیں ہوگا تو خود بخود یہ بل کلعدم ہو جائے گا۔اس کی دوسری صورت ہے کہ دہلی میں خوب و خوب احتجاج و مظاہرہ کیا جائے، حتی کہ مرکزی حکومت اس بل کو واپس لینے پر مجبور ہو جائے۔
0 تبصرہ
KOIKqIT hkiVVCoU zZYbhaR NEPdGh lETvq JuZ wCRYDvE