کلکتہ 17نومبر: گذشتہ کچھ سالوں سے این آر سی کا مدعی کسی نہ کسی طرح سے اخباروں کی سرخی بتنے آرہا ہے، جہاں آسام کی حکومت نے این آر سی کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے، وہی مغربی بنگال پورے ہندستان میں یہ پہلی ایسی ریاست ہے جس کہ این آر سی کے مخالف قانون اسمبلی میں پیش کیا،7ستمبر 2019کو بنگال حکومت کی جانب سے اسمبلی میں این آر سی کے خلاف قانو پیش کیا گیا، اس کے علاوہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کئی مر تبہ بارہا اعلان کر چکی ہیں کہ مغربی بنگال میں کوئی این آر سی لاگو نہیں ہوگا، گذشتہ 13مارچ 2024کو مشہور انگریزی اخبار نے بھی ممتا بنرجی کے ایک بیان کو شائع کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بنگال میں این آر سی جیسی کوئی چیز نافذ نہیں ہوگا، تاہم مغربی بنگال اور کلکتہ پولس کا ممتا بنرجی کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا، جس کی بناء پولس اہلکار نے اب خود ہی ایس آر سی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، موصولہ اصلاعات کے مطابق بنگال کے علاقہ میں جتنے بھی نئے پاسپورٹ بن رہے ہیں اس کی ویری فکیشن کے دوران پولس اہلکار نے پاسپورٹ کے لیے ضروری دستاویزات کے علاوہ باپ ماں کی تاریخ پیدائش کی سرٹیفکٹ، اور زمین کے کاغذات کا مطالبہ کرنا شروع کردیاہے، خبروں کے مطابق کلکتہ 66میں واقع رابندرا نگر تھانہ میں دھرلے سے پاسپورٹ ڈاکومنٹ کے علاوہ این آر سی سے متعلق دستاویزات کا مطالبہ کر نا شروع کر دیا ہے، جس کے کئی واقعہ منظر عام پر آچکے ہیں، حالیہ دنوں میں اسی قسم کا واقع رونما ہوا کہغلام بنی نامی ایک شخص کا پاسپورٹ گذشتہ دو سال سے صرف پولس ویری فکیشن کی وجہ سے زیر التواء تھا، بعد میں مقامی ایم ایل کی مداخلت سے پاسپورٹ کی ویری فکیشن مکمل ہوئی، اور پھر ایک ہفتہ کے دوران پاسپورٹ آگیا، اسی طرح مٹیا برج میں واقع ایک مسجد کے امام صاحب نے اپنے جاننے والوں کو یہ مشورہ دیتے نظر آئیں کہ اپناپاسپورٹ اپنے آبائی وطن میں ہی بنائیں چونکہ کہ مغربی بنگال میں پاسپورٹ کی اپلائی میں بہت ہی پریشانیاں ہو رہی ہیں، اسی طرح سے خود ممتا بنرجی کے علاقہخضرپور میں بھی اسی قسم کے کئی واقعات رو نماں ہو چکے ہیں، اقبال پور اور مومن پور کے تھانہ میں بھی اسی قسم کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جس کی بناء پر لوگوں کے درمیان سخت بیزاری پائی جارہی ہے، رونق اردو میڈیا کے نمائندہ بات کرتے ہیں ایک صاحب نہ بتایا کہ ممتا بنرجی در اصل در پردہ بی جے پی سے ملی ہوئی ہیں، اس لیے کہتی کچھ ہیں اور پولس انتظامیہ کر کرواتی کچھ ہیں، اسی قسم کے واقعات گارڈن ریچ کے تھانہ میں بھی رونما ہوا ہے، اور پاسپورٹ کے پولس ویری فکیشن میں سخت پریشان کیا گیا ہے، واضح رہے کہ کلکتہ کی بنیاد انگریزوں نے رکھی تھی جو کہ صرف تین گاؤں پر پی مشتمل تھا، پھر باہر سے لوگ آتے گئے اور کلکتہ کو چار چاند لگاتے ہیں، ابھی بھی شہر کلکتہ میں بزنس سرکل انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، جن کے اباء و اجداد بہار و یوپی سے آکر کلکتہ میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں، ان لوگوں کو پریشان کرنے کا مطلب ہے کہ کلکتہ کی بزنس کو خراب کرنا ہے، حالیہ دنوں میں کلکتہ کے ایک بیگ تاجر اسی قسم کی پریشانی کی وجہ سے اپنی تجارت کلکتہ سے پٹہ منتقل کر چکے ہیں، اور فی الوقت وہ بہار کے بڑے بیگ منوفیکچررر کی شکل میں بہار میں ابھرے ہیں، کلکتہ کسی وقت میں جوٹ صنعت کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، لیکن یہ صنعت اسی قسم کی تنگ ذہنی کی شکار ہو کی وجہ سے تقریبا ختم ہو چکی ہے، ایک موقع تھا کہ کلکتہ ہینڈی کرافٹ کے لیے اہم مارکٹ سمجھا جاتا تھا، لیکن آج اسی تنگ ذہنی کی وجہ سے وہ بھی ختم ہو چکا ہے، در اصل جس ریاست میں لوگوں آمد و رفت کم ہو جاتی ہے، خود بخود بزنس ختم ہو جاتی ہے، کلکتہ پولس کا یہ رویہ بھلے ہی کسی خاص وجہ سے ہو مگر یہ بزنس اور تجارت کے لیے انتہائی خراب ہے اس لیے فوری طور پر اس پر توجہ دینی چاہئے۔
بنگال میں خاموشی سے این آر سی کا نفاذ، پولس اور حکومت آمنے سامنے
اپنا ای میل