قارئین کرام!حالیہ دنوں میں اخبارات میں ایک خبر گردش کر رہی ہے، جس میں دارالعلوم دیوبند کے ایک سوال کے جواب کو لیکر میڈیا میں خوف اچھا لا جارہا ہے، موصولہ اطلاعات کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء سے کسی نے سوال کیا کہ کیا ہندستان کے بارے میں غزہ ہند سے متعلق کوئی حدیث اسلام میں موجودہے، جس پر دارالعلوم دیوبند کا دارلافتاء پوری صداقت ایمانداری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں موجود ہے، اور پھر اس حدیث کی نشان دیہی کی گئی۔جس پر کچھ ملک مخالف عناصر نے واویلا مچانا شروع کردیا اور دارالعلوم دیوبندکو ملک مخالف قرار دیا، کچھ گودی میڈیا جس کی ٹی آر پی بالکل ختم ہو چکی تھی، اسے اپنی چورن فروخت کر نے کے لیے استعمال کرنے لگی۔کچھ ناسمجھ میڈیا ہاؤس نے یہاں تک کہہ دیا کہ دیوبند کا واضح موقف اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔
قارئین کرام!دارالعلوم دیوبند ایک اسلامی ادارہ ہے، جو کہ اسلام سے متعلق ہر سوال کا جواب دیتاہے، دارالعلوم دیوبند پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہے، کہ جو سوال کیا جائے اس کے مطابق اسلام میں جو جواب موجود ہو وہی جواب دے، بے غیر اپنی طرف سے کچھ کمی زیادتی کئے،دارالعلوم دیوبند نے یہی کیا۔دارالعلوم دیوبند کے اس کردار کی سراہنائی کرنی چاہئے کہ جو اسلام میں موجود ہے دارالعلوم نے بالکل وہی جواب دیا۔اس پر دارالعلوم دیوبند کسی بھی اعتبار سے کہیں بھی ماخوذ اور جواب دہ نہیں ہے، دارالعلوم دیوبند کے علاوہ پوری دنیا میں کسی بھی ادارہ سے سوال کیا جاتا تو اس کا وہی جواب ہوتا جو کہ دارالعلوم دیوبند نے دیا ہے۔ بذات خود وکی پیڈیا جو کہ آن لائن انفورمیشن فراہم کرنے والی مستند ویب سائٹ ہے، اس پر بھی غزہ ہند سے متعلق پوری صفحہ موجود ہے، جسے اس لنک پر کلک کرکے دیکھا جا سکتا ہے،
https://en.wiktionary.org/wiki/Ghazwa-e-Hind
اس کے علاوہ دنیا کی مشہور و معروف کمپنی ایموزون بھی غزہ ہند نامی کتاب آن لائن فروخت کر رہی ہے جسے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے دیکھا جاسکتا ہے۔
https://www.amazon.in/Ghazwa-hind-Tapan-Kumar-Das-ebook/dp/B09QGVH51K
اس کے علاوہ ایک اوربھی متعدد ویب سائٹ ہیں جو کہ آن لائن غزوۃ الہند کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے،تو سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے گا۔
صرف یہی نہیں بلکہ ہندؤں کے چارو وید رگ وید، تجر وید، اتھر وید اور منوسمرتی میں لکھا ہوا ہے: منتر اے اندر میرے دھنی سلطنت کو باقی رکھ اور میرے دشمن کو ہلاک کردے، دشمن سے مراد غیر ہندو ہے، تو کیا پورے ہندوؤں کو دنیا اپنے مخالف سمجھے، ہندؤں کے موجودہ آئین میں صرف ایک ہی شادی ایک وقت میں کیا جاسکتا ہے، جب کہ ہندو کی کتابوں میں پنج پنڈٹ کا تذکرہ بھی ملتاہے، یعنی کہ پانچ بھائیوں نے ایک ہی لڑکی سے شادی کی تھی،۔اب اگر کوئی پنڈٹ کسی کے جواب میں اس واقعہ کا تذکرہ کرے تو کیا، اسے موجودہ قانون کا مخالف سمجھا جائے گا، اسلام میں صرف ہند کا نہیں بلکہ خراسان، یمن اور دیگر ملکوں کا بھی تذکرہ ہے تو کیا ہر ملک اسے اپنے اعتبار سے الگ زاویہ سے دیکھے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیاکے جتنے مذاہب میں ان تمام میں اس قسم کی چیز اور پیش قیاسی موجود ہے، اور ہر مذہب کے اہلکار سوال کا جواب اپنی مذہب کے مطابق دینے کے پابند عہد ہیں، اس کے لیے ان پر کوئی دفعات لاگو نہیں ہوتے ہیں۔